سنن دارمي
من كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
باب النَّهْيُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَمَا يُنْبَذُ فِيهِ: باب: گڑھے اور دوسرے برتن کی نبیذ کا بیان
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا يَحْرُمُ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ، فَقَالَ: الْخَمْرُ . قُلْتُ: هُوَ فِي الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: مَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالِاسْمِ أَوْ بِالرِّسَالَةِ، قَالَ: فَقَالَ: "نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
فضیل بن زید الرقاشی، سیدنا عبدالله بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے بتایئے کون سا مشروب ہمارے لئے حرام ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ شراب حرام ہے، فضیل نے کہا: کیا یہ قرآن میں ہے؟ فرمایا: میں نے تم سے وہی بیان کیا جو میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ راوی نے کہا: یاد نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا یا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، انہوں نے دباء (کدو کا تونبا)، حنتم (لاکھی ٹھلیا یا لاکھی مرتبان)، نقیر لکڑی کے بنے ہوئے برتن سے منع فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2148)
یعنی دباء، حنتم اور نقیر میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی اس لئے ان میں نبیذ بنانے سے شروع میں منع کیا گیا لیکن بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دیدی، لہٰذا ان روایات کا حکم منسوخ ہو گیا جیسا کہ پیچھے گذر چکا ہے۔
یعنی دباء، حنتم اور نقیر میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی اس لئے ان میں نبیذ بنانے سے شروع میں منع کیا گیا لیکن بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دیدی، لہٰذا ان روایات کا حکم منسوخ ہو گیا جیسا کہ پیچھے گذر چکا ہے۔