سنن دارمي
من كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
باب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وَشِرَائِهَا: باب: شراب کی خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2139
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا طُعْمَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَيَانٍ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ، فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِنَّمَا هُوَ عُمَرُ بْنُ بَيَانٍ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شراب کو بیچا اس کو چاہیے کہ خنزیر کا گوشت بھی صاف کر لے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: عمرو بن بیان التغلبی: عمر بن بیان ہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2137 سے 2139)
یعنی جب اس نے شراب بیچنا درست سمجھا تو اس نے سور کھانے کو بھی درست جانا، کیونکہ شراب اور سور دونوں حرمت میں برابر ہیں۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس نے شراب بیچی گویا اس نے خنزیر کی خرید و فروخت کی۔
یہ تہدیدِ شدید ہے جس سے معلوم ہوا کہ شراب کا خریدنا یا بیچنا اسی طرح حرام ہے جس طرح خنزیر کا خریدنا اور بیچنا حرام ہے۔
یعنی جب اس نے شراب بیچنا درست سمجھا تو اس نے سور کھانے کو بھی درست جانا، کیونکہ شراب اور سور دونوں حرمت میں برابر ہیں۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس نے شراب بیچی گویا اس نے خنزیر کی خرید و فروخت کی۔
یہ تہدیدِ شدید ہے جس سے معلوم ہوا کہ شراب کا خریدنا یا بیچنا اسی طرح حرام ہے جس طرح خنزیر کا خریدنا اور بیچنا حرام ہے۔