حدیث نمبر: 2138
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَوَّلُ دِينِكُمْ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ مُلْكٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ مُلْكٌ أَعْفَرُ، ثُمَّ مُلْكٌ وَجَبَرُوتٌ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الْخَمْرُ وَالْحَرِيرُ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سُئِلَ عَنْ أَعْفَرَ، فَقَالَ: يُشَبِّهِهُ بِالتُّرَابِ وَلَيْسَ فِيهِ خَيْرٌ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دین کے شروع میں (طرز حکومت) نبوت و رحمت ہے، پھر ملوکیت و رحمت، پھر مانند مٹی کے بادشاہت، پھر شاہی ڈکٹیٹری جس میں شراب و ریشم کو حلال سمجھا جائے گا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے اعفر کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ مٹی کے مشابہ ہے جس میں کوئی خیر نہیں۔