حدیث نمبر: 2135
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "اشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو فرمایا: ”کچھ بھی پیو بس نشہ آور نہ پیو کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2134)
نسائی کی روایت (5602) میں ہے: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں ایسی سرزمین پر بھیج رہے ہیں جہاں لوگ کثرت سے شراب پیتے ہیں، تو ہم کیا پئیں؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بھی پینا لیکن جو نشہ لائے وہ نہ پینا۔
“ اس کا مطلب ہے نبیذ انگور اور کھجور کا شربت وغیرہ جب تک کہ وہ نشہ آور نہ ہو پی سکتے ہیں۔
نسائی کی روایت (5602) میں ہے: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں ایسی سرزمین پر بھیج رہے ہیں جہاں لوگ کثرت سے شراب پیتے ہیں، تو ہم کیا پئیں؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بھی پینا لیکن جو نشہ لائے وہ نہ پینا۔
“ اس کا مطلب ہے نبیذ انگور اور کھجور کا شربت وغیرہ جب تک کہ وہ نشہ آور نہ ہو پی سکتے ہیں۔