حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِالطَّعَامِ، فَلْيُجْلِسْهُ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُنَاوِلْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لے کر آئے تو اس کو بھی (اپنے ساتھ کھانے کے لئے) بٹھائے، اگر وہ انکار کرے تو اس کو بھی اس کھانے میں سے کچھ دے دے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2109)
لفظ خادم میں غلام، نوکر چاکر، شاگرد سب داخل ہیں۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے: اگر اپنے ساتھ کھانے کو نہ بٹھا سکو تو ایک دو نوالے ضرور کھلا دو کیونکہ اسی نے کھانا تیار کرنے کی مشقت و گرمی کی تکلیف اٹھائی ہے، جیسا کہ دوسری روایت اس سے آگے آ رہی ہے۔
حدیث میں غلام و نوکروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم ہے۔
اسلام میں انسان ہونے کے ناطے سب برابر ہیں، نہ کوئی مالک ہے نہ مملوک، حقیقی مالک و آقا تو سب کا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے، دنیاوی آقا و مالک تو سب مجازی ہیں، آج ہیں کل نہیں۔
(راز رحمہ اللہ)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2110
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2117]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2557] ، [مسلم 1663] ، [ترمذي 1853] ، [أبويعلی 6320] ، [الحميدي 1101]