حدیث نمبر: 2074
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا، أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتَهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ صَدَقَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوشریح الخزاعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت (خاطر مدارات) کرے۔ مہمان داری ایک دن ایک رات (کی فرض) ہے اور مہمانی تین دن تک سنت ہے، اس کے بعد (مہمان اگر رکا رہے اور میزبان اس پر کچھ خرچ کرے تو یہ) صدقہ ہے۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاطعمة / حدیث: 2074
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2078]» ¤ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن دوسری سند سے حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6019، 6135] ، [مسلم 48 فى كتاب الايمان] ، [ترمذي 1967] ، [ابن ماجه 3675] ، [ابن حبان 5287] ، [الحميدي 585] ، [أبويعلی الموصلي 6218]