حدیث نمبر: 207
أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، يَقُولُ: "قَدْ رَضِيتُ مِنْ أَهْلِ زَمَانِي هَؤُلَاءِ أَنْ لَا يَسْأَلُونِي وَلَا أَسْأَلُهُمْ، إِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَرَأَيْتَ، أَرَأَيْتَ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر

زید بن حباب سے مروی ہے رجاء بن ابی سلمہ نے مجھے خبر دی کہ میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو کہتے سنا: میں اپنے ان ہم عصر ساتھیوں سے خوش ہوں جو نہ مجھ سے کچھ پوچھتے ہیں اور نہ میں ہی ان سے کوئی سوال کرتا ہوں، ان میں سے کوئی کہتا ہے: تمہاری کیا رائے ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 207
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل عباس بن سفيان الدبوسي
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عباس بن سفيان الدبوسي، [مكتبه الشامله نمبر: 207]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے، اور ابوزرعۃ نے [تاريخ 743] میں اس اثر کو ذکر کیا ہے۔