حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ: "أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سانڈا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک امت (تھی)، مسخ کر دی گئی، الله زیادہ جانتا ہے (وہ کون ہے)۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2054)
ابوداؤد اور نسائی میں ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے جانور بنا دیا گیا، میں نہیں جانتا وہ کونسا جانور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھایا اور نہ اس کے کھانے سے منع کیا۔
علامہ وحیدالزماں نے کہا: تو نہ کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطریقِ احتیاط وتورع کے، نہ بوجہ حرمت کے۔
دوسری حدیث سے معلوم ہوا کہ جو گروہ مسخ ہوا تھا وہ سب تین دن میں مر گئے (تھے)، پھر یہ شبہ جاتا رہا۔
[أبوداؤد حاشيه ف حديث 3795]۔
ابوداؤد اور نسائی میں ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے جانور بنا دیا گیا، میں نہیں جانتا وہ کونسا جانور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھایا اور نہ اس کے کھانے سے منع کیا۔
علامہ وحیدالزماں نے کہا: تو نہ کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطریقِ احتیاط وتورع کے، نہ بوجہ حرمت کے۔
دوسری حدیث سے معلوم ہوا کہ جو گروہ مسخ ہوا تھا وہ سب تین دن میں مر گئے (تھے)، پھر یہ شبہ جاتا رہا۔
[أبوداؤد حاشيه ف حديث 3795]۔