سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَمَا يَحْدُثُ فِيهِ: باب: زمانے کے تغیر اور اس میں رونما ہونے والے حادثات کا بیان
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "يُفْتَحُ الْقُرْآنُ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَقْرَأَهُ الْمَرْأَةُ وَالصَّبِيُّ وَالرَّجُلُ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعُ، وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِيهِمْ لَعَلِّي أُتَّبَعُ، فَيَقُومُ بِهِ فِيهِمْ فَلَا يُتَّبَعُ، فَيَقُولُ: قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَقَدْ قُمْتُ بِهِ فِيهِمْ، فَلَمْ أُتَّبَعْ، لأَحْتَظِرْنَّ فِي بَيْتِي مَسْجِدًا لَعَلِّي أُتَّبَعْ، فَيَحْتَظِرُ فِي بَيْتِهِ مَسْجِدًا فَلَا يُتَّبَعُ، فَيَقُولُ: قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَقُمْتُ بِهِ فِيهِمْ فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَقَدْ احْتَظَرْتُ فِي بَيْتِي مَسْجِدًا , فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ بِحَدِيثٍ لَا يَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يَسْمَعُوهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ لَعَلِّي أُتَّبَعُ، قَالَ مُعَاذٌ: فَإِيَّاكُمْ وَمَا جَاءَ بِهِ فَإِنَّ مَا جَاءَ بِهِ ضَلَالَةٌ".سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن کریم لوگوں پر آسان ہو جائے گا یہاں تک کہ عورت بچے اور مرد سب اس کو پڑھیں گے ، آدمی کہے گا میں نے قرآن پاک پڑھا لیکن میری پیروی نہیں کی جاتی، قسم اللہ کی میں پھر اس کو (لے کر کھڑا ہوں گا) ضرور پڑھوں گا، شاید میری اتباع کی جائے، چنانچہ پھر پڑھے گا اور پھر بھی کوئی اس کی پیروی نہ کرے گا، تو وہ کہے گا: میں نے قرآن پڑھا لیکن میری پیروی نہیں کی گئی، میں اسے لے کر ان میں کھڑا ہوا، پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہوا، اب میں اپنے گھر میں مسجد بناؤں گا شاید میری پیروی کی جائے، چنانچہ وہ اپنے گھر میں مسجد بنائے گا، پھر بھی اس کی پیروی نہ کی جائے گی تو وہ کہے گا: میں نے قرآن پڑھا لیکن میری پیروی نہ کی گئی، اسے لے کر کھڑا ہوا پھر بھی اتباع نہ کی گئی، اپنے گھر میں مسجد بنائی پھر بھی اتباع نہ کی گئی۔ قسم اللہ کی اب میں ایسی باتیں ان کے لئے لاوں گا جسے وہ اللہ عزوجل کی کتاب میں پائیں گے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوں گی شاید اس وقت میری پیروی کی جائے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! جو وہ بتائے اس سے بچنا (وہ قرآن و سنت کے علاوہ) جو کچھ لائے گا وہ گمراہی ہے۔
اس اثر میں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ جب فتنے رونما ہوں گے تو لوگ قرآن پاک کی پیروی کی طرف دھیان نہ دیں گے تو قرآن پڑھنے والے اپنی طرف سے مسائل گھڑ لیں گے، جن کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہ ہوگا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے بچنے اور ان کی باتیں سننے اور عمل کرنے سے منع کیا اور بتایا ہے کہ قرآن و حدیث کے علاوہ سب کچھ سراسر گمراہی ہے۔