سنن دارمي
من كتاب الصيد— شکار کے مسائل
باب في اقْتِنَاءِ كَلْبِ الصَّيْدِ أَوِ الْمَاشِيَةِ: باب: شکار یا مویشی کی حفاظت کے لئے کتا پالنے کا بیان
حدیث نمبر: 2045
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا بَالِي وَلِلْكِلَابِ ؟"، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الرَّعْيِ وَكَلْبِ الصَّيْدِ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”مجھے کتوں سے کیا غرض ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی اور شکار کے کتے کو رکھنے کی اجازت دیدی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2044)
«مَا بَالِىْ وَلِلْكِلَابِ» کا مطلب یہ ہے کہ کتا پالنا بے فائدہ بلکہ وہ نجس ہے، احتمال ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے۔
رہا کتوں کو قتل کرنے کا معاملہ تو صرف کلب عقور کالا یا کٹ کھنا کتا مارنے کا حکم ہے، اور کھیتی، مویشی، شکار کے کتے اور ضرر نہ پہنچانے والے کتے مستثنیٰ ہیں۔
واللہ اعلم۔
«مَا بَالِىْ وَلِلْكِلَابِ» کا مطلب یہ ہے کہ کتا پالنا بے فائدہ بلکہ وہ نجس ہے، احتمال ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے۔
رہا کتوں کو قتل کرنے کا معاملہ تو صرف کلب عقور کالا یا کٹ کھنا کتا مارنے کا حکم ہے، اور کھیتی، مویشی، شکار کے کتے اور ضرر نہ پہنچانے والے کتے مستثنیٰ ہیں۔
واللہ اعلم۔