حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النُّهْبَةِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا فِي الْغَزْوِ إِذَا غَنِمُوا قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار سے منع فرمایا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد غزوات میں تقسیم سے پہلے کی مال غنیمت کی لوٹ مار ہے۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 2033)
لوٹ مار کسی وقت بھی جائز نہیں، خواہ وہ مال غنیمت کی ہو یا کسی اور کے مال کی، ارشادِ ربانی ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ...﴾ [النساء: 29]» اے مومنو! تم ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔
اس حدیث میں لوٹ مار اور رہزنی سے منع کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاضاحي / حدیث: 2034
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2038]» ¤ اس حدیث کی سند جید ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3474] ، [ابن حبان 3267، 5170] ، [موارد الظمآن 1270، 1680] ، [أحمد 62/5] ، [ابن ابي شيبه 2369] ، [طحاوي مشكل الآثار 130/1] ۔ ابولبید کا نام لمازہ بن زبار ہے۔