سنن دارمي
من كتاب الاضاحي— قربانی کے بیان میں
باب مَا لاَ يُؤْكَلُ مِنَ السِّبَاعِ: باب: درندے کھانے جائز نہیں ہیں
حدیث نمبر: 2021
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے اور ہر پنجے (سے شکار کرنے) والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا (یعنی جو پنجے سے شکار کرے جیسے باز، شکرہ، بحری گدھ وغیرہ اور اس میں چیل و گدھ بھی شامل ہیں)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2020)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو پرندے پنجے سے شکار کرتے ہیں یا وہ درندے جو دانتوں سے گوشت پھاڑ ڈالتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو پرندے پنجے سے شکار کرتے ہیں یا وہ درندے جو دانتوں سے گوشت پھاڑ ڈالتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے۔