حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ طَلْحَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ: "يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَاللَّهِ لَقَدْ تَكَلَّمْتُ، وَلَوْ وَجَدْتُ بُدًّا مَا تَكَلَّمْتُ، وَإِنَّ زَمَانًا أَكُونُ فِيهِ فَقِيهَ أَهْلِ الْكُوفَةِ زَمَانُ سُوءٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابوحمزه میمون سے مروی ہے کہ امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: اے ابوحمزه ! میں نے کلام کیا ہے اور اگر کوئی چارہ ہوتا تو میں لب کشائی نہ کرتا، بیشک یہ وقت جس میں، میں کوفہ والوں کا فقیہ ہو گیا ہوں برا وقت ہے۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 202
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف ميمون أبي حمزة القصاب، [مكتبه الشامله نمبر: 202]
تخریج حدیث اس روایت میں ابوحمزہ ضعیف ہیں، اور یہ اثر [حلية الأولياء 223/4] میں بھی موجود ہے۔