حدیث نمبر: 2014
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ" . فَقَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْمُجَثَّمَةُ: الْمَصْبُورَةُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجثمہ سے منع فرمایا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: مجثمہ مصبورہ کو کہتے ہیں یعنی بندھے ہوئے جانور کو تیر یا گولی یا پتھر سے مارنا۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 2013)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی بھی جانور کو عبث مارنا، اس کی جان سے کھیلنا، ترسا ترسا کر مارنا بہت ہی قبیح فعل ہے، اور اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے۔
پھر ایسا جانور جس کو باندھ کر مارا گیا ہو، گناہ بھی ہے اور حلال بھی نہیں۔
یہ اسلام کا پاکیزہ نظامِ رحمت ہے جس میں جانوروں پر بھی رحمت کی تعلیم ہے۔
کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاضاحي / حدیث: 2014
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2018]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5515] ، [مسلم 1957] ، [أبوداؤد 3719] ، [ترمذي 1825] ، [نسائي 4460] ، [أبويعلی 2497] ، [ابن حبان 5608]