سنن دارمي
من كتاب الاضاحي— قربانی کے بیان میں
باب النَّهْيِ عَنْ مُثْلَةِ الْحَيَوَانِ: باب: حیوان کے مثلہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2013
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ" . قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةً مَا صَبَرْتُهَا.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ جانور مرغی ہی کیوں نہ ہو میں اسے باندھ کر نہیں ماروں گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2012)
سبحان اللہ! قربان جائیں اسلام کے نظامِ عدل و رحمت پر کہ ایک معمولی جانور کو بھی ایذاء دے کر مارنے کی ممانعت کر دی گئی اور اس کے خلاف عمل کرنے والے اسلام میں ملعون ہیں۔
یعنی رحمتِ باری تعالیٰ سے دور بھگا دیئے جاتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے۔
سبحان اللہ! قربان جائیں اسلام کے نظامِ عدل و رحمت پر کہ ایک معمولی جانور کو بھی ایذاء دے کر مارنے کی ممانعت کر دی گئی اور اس کے خلاف عمل کرنے والے اسلام میں ملعون ہیں۔
یعنی رحمتِ باری تعالیٰ سے دور بھگا دیئے جاتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے۔