حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مکہ میں نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا میں اب بھی اس پتھر کو پہچانتا ہوں۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 20
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 20]» ¤ یہ حدیث صحيح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 89/5] ، [مسلم 2277] ، [ترمذي 3628] ، [الطيالسي 2450] ، [والطبراني 1907، 220/2] وغیرہم۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2277 | سنن ترمذي: 3624 | معجم صغير للطبراني: 843

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2277 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں،مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں،جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5939]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: پتھر کا آپ کو نبوت کے اعلان سے پہلے سلام کرنا خرق عادت ہے اور اعلان نبوت سے پہلے خرق عادت کو ارہاص کہتے ہیں اور اعلان نبوت کے بعد خرق عادت کو معجزہ کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2277 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3624 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3624]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ایک معجزہ تھا جو آپﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3624 سے ماخوذ ہے۔