سنن دارمي
من كتاب الاضاحي— قربانی کے بیان میں
باب الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ: باب: اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات افراد کی شرکت کا بیان
حدیث نمبر: 1995
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ" . قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات افراد کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ یہ ہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1993 سے 1995)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں، اونٹ کے لئے بھی یہی حکم ہے، بعض روایات میں ہے کہ اونٹ کی قربانی میں 10 آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
دیکھئے: [ترمذي 1501]، لیکن اولی اور احوط یہی ہے کہ سات آدمی ہی شریک ہوں۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں، اونٹ کے لئے بھی یہی حکم ہے، بعض روایات میں ہے کہ اونٹ کی قربانی میں 10 آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
دیکھئے: [ترمذي 1501]، لیکن اولی اور احوط یہی ہے کہ سات آدمی ہی شریک ہوں۔