سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَمَا يَحْدُثُ فِيهِ: باب: زمانے کے تغیر اور اس میں رونما ہونے والے حادثات کا بیان
حدیث نمبر: 195
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ، وَمَا عُبِدَتْ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ إِلَّا بِالْمَقَايِيسِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس ہے اور قیاس کی ہی بدولت سورج و چاند کی عبادت کی گئی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 194)
شیطان کا قیاس یہ تھا کہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں افضل ہوں، اور افضل مفضول کو کیسے سجدہ کرے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
شیطان کا قیاس یہ تھا کہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں افضل ہوں، اور افضل مفضول کو کیسے سجدہ کرے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔