سنن دارمي
من كتاب المناسك— حج اور عمرہ کے بیان میں
باب سُنَّةِ الْبَدَنَةِ إِذَا عَطِبَتْ: باب: قربانی کا جانور جب مرنے لگے تو کیا کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 1948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ، نَحْوَهُ.محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا ناجیہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق روایت ہے۔ ترجمہ اوپر مذکور ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1946 سے 1948)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی (قربانی کا جانور) اگر ہلاک ہونے لگ جائے تو اس کو ذبح کر دینا چاہئے اور نشانی کے طور پر اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو کر اس پر رکھ دینے چاہئیں تاکہ گزرنے والے لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور اس کو پکا اور کھا لیں، ہاں صاحبِ ہدی کو اس میں سے کھانا درست نہیں ہے، صاحبِ ہدی صرف قربانی کرنے کے بعد ہی کھا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانی کے طور پر اپنے ہدی کے جوتے لٹکا دیئے تھے تاکہ معلوم رہے کہ یہ جانور قربانی کا ہے، کما سیأتی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی (قربانی کا جانور) اگر ہلاک ہونے لگ جائے تو اس کو ذبح کر دینا چاہئے اور نشانی کے طور پر اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو کر اس پر رکھ دینے چاہئیں تاکہ گزرنے والے لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور اس کو پکا اور کھا لیں، ہاں صاحبِ ہدی کو اس میں سے کھانا درست نہیں ہے، صاحبِ ہدی صرف قربانی کرنے کے بعد ہی کھا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانی کے طور پر اپنے ہدی کے جوتے لٹکا دیئے تھے تاکہ معلوم رہے کہ یہ جانور قربانی کا ہے، کما سیأتی۔