حدیث نمبر: 1935
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"أَرْخَصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابوالبداح بن عاصم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ چرانے والوں کو اجازت دی کہ وہ نحر کے دن رمی کر لیں، پھر دوسرے دن یا کل کے بعد ایک ساتھ دو دن کی رمی کر لیں، پھر جس دن منیٰ سے واپسی کا ارادہ ہو اس دن رمی کر لیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض رواة نے عبدالله بن ابی بکر عن ابیہ عن ابی البداح کہا ہے۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 1933 سے 1935)
اونٹوں کے چرواہے اونٹ چرانے کے لئے منیٰ سے دور چلے جاتے تھے اور ان کو روزانہ منیٰ میں رمی کے لئے آنا دشوار تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تھی کہ دو دن کی رمی آ کر ایک دن میں کر لیں، مثلاً یوم النحر کو کنکری مار کر چلے جائیں پھر 11 کو رمی نہ کریں 12 تاریخ کو آ کر دونوں دن کی رمی کر لیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب المناسك / حدیث: 1935
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1939]» ¤ یہ دو اسناد ہیں، پہلی سند ضعیف اور دوسری سند جس کا حوالہ امام دارمی رحمہ اللہ نے دیا ہے صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1975] ، [ترمذي 955] ، [نسائي 3069] ، [ابن ماجه 3027] ، [أبويعلی 6836] ، [ابن حبان 3888] ، [موارد الظمآن 1015] ، [الحميدي 877]