سنن دارمي
من كتاب المناسك— حج اور عمرہ کے بیان میں
باب مَنِ اعْتَمَرَ في أَشْهُرِ الْحَجِّ: باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ جس کا ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے (یعنی احرام کھول دے) اس کے لئے ساری چیزیں حلال ہو گئیں، اور عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1893)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشہر الحج میں عمرہ کیا جا سکتا ہے چاہے حج کرنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو، اس حدیث سے مشرکینِ مکہ کا رد ہو گیا جو اشہر الحج میں عمرہ کرنا برا سمجھتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشہر الحج میں عمرہ کیا جا سکتا ہے چاہے حج کرنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو، اس حدیث سے مشرکینِ مکہ کا رد ہو گیا جو اشہر الحج میں عمرہ کرنا برا سمجھتے تھے۔