سنن دارمي
من كتاب المناسك— حج اور عمرہ کے بیان میں
باب في الْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ مَا يُصْنَعُ بِهِ: باب: حالت احرام میں کسی کا انتقال ہو جائے تو کیا کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک آدمی میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کئے ہوئے تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا، یا کہا: اور اونٹ نے انہیں کچل دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو، انہیں نہ خوشبو لگانا نہ ان کا سر ڈھانکنا، کیونکہ قیامت کے دن الله تعالیٰ انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔“