سنن دارمي
من كتاب المناسك— حج اور عمرہ کے بیان میں
باب مَنْ رَمَلَ ثَلاَثاً وَمَشَى أَرْبَعاً: باب: طوافِ قدوم کے تین پھیروں میں تیزی سے چلنا اور باقی چار اشواط میں معمولی رفتار سے چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیرے چلتے ہوئے پورے کئے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1878 سے 1880)
ان احادیث سے طوافِ قدوم میں تین پھیروں میں رمل کرنا ثابت ہوا، نیز یہ کہ اگر بھیڑ کی وجہ سے رمل نہ کر سکے اور چل کر طواف کرے تو بھی کوئی حرج نہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ طواف حجرِ اسود سے شروع کرنا ہوگا اور حجرِ اسود پر ہی ختم ہوگا کیونکہ حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک ایک پھیرا مکمل ہوگا، اور رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے مابین بھی طوافِ قدوم کے پہلے تین پھیروں میں رمل کرنا ہوگا الا یہ کہ وہاں بھیڑ بھاڑ ہو اور دوڑا نہ جا سکے۔
واللہ اعلم۔
ان احادیث سے طوافِ قدوم میں تین پھیروں میں رمل کرنا ثابت ہوا، نیز یہ کہ اگر بھیڑ کی وجہ سے رمل نہ کر سکے اور چل کر طواف کرے تو بھی کوئی حرج نہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ طواف حجرِ اسود سے شروع کرنا ہوگا اور حجرِ اسود پر ہی ختم ہوگا کیونکہ حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک ایک پھیرا مکمل ہوگا، اور رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے مابین بھی طوافِ قدوم کے پہلے تین پھیروں میں رمل کرنا ہوگا الا یہ کہ وہاں بھیڑ بھاڑ ہو اور دوڑا نہ جا سکے۔
واللہ اعلم۔