سنن دارمي
من كتاب المناسك— حج اور عمرہ کے بیان میں
باب مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ في إِحْرَامِهِ: باب: احرام کی حالت میں محرم کا جن جانوروں کو مار ڈالنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1854
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قُتِلَ مِنْهُنَّ: الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں جن کے قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں: کوا، چوہیا، چیل، بچھو، اور کالا کتا“ (کٹ کھنا کتا)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1853)
صحیح حدیث میں صراحت ہے کہ مذکورہ بالا پانچوں موذی جانوروں کو حل و حرم میں ہر جگہ قتل کیا جاسکتا ہے، یہ حدیث آگے آ رہی ہے اور نسائی میں ہے پانچ جانور ہیں جن کے مار ڈالنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں۔
صحیح حدیث میں صراحت ہے کہ مذکورہ بالا پانچوں موذی جانوروں کو حل و حرم میں ہر جگہ قتل کیا جاسکتا ہے، یہ حدیث آگے آ رہی ہے اور نسائی میں ہے پانچ جانور ہیں جن کے مار ڈالنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں۔