حدیث نمبر: 1841
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: "طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ، وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور منیٰ میں (جس وقت احرام کھولا) طواف افاضہ سے پہلے خوشبو لگائی۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 1838 سے 1841)
ان تینوں احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے بدن پر خوشبو لگانا سنّت ہے لیکن یہ خوشبو احرام کی چادر پر نہیں لگنی چاہیے۔
اسی طرح طوافِ افاضہ سے پہلے خوشبو لگانا سنّت ہے۔
جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ رمی اور حلق کے بعد خوشبو لگانا اور سلے ہوئے کپڑے پہننا درست ہے، صرف عورتوں سے صحبت کرنا درست نہیں ہوتا، طوافِ افاضہ کے بعد وہ بھی درست ہو جاتا ہے اور یہی مسلک امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب المناسك / حدیث: 1841
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1844]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5922] ، [مسلم 1189/33] ، [أبوداؤد 1745] ، [نسائي 5684]