سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب اعْتِكَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا بیان
حدیث نمبر: 1818
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِّيَةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي "اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں جب کہ آپ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، تھوڑی دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں اور کھڑی ہو گئیں۔ (یعنی واپسی کے لئے)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1817)
اعتکاف میں مسجد سے بلاضرورت باہر نکلنا، فضول باتیں کرنا ممنوع ہوتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کرنے والا اپنی بیوی سے بات کر سکتا ہے اور بیوی ملنے کے لئے مسجد جا سکتی ہے، مذکور بالا حدیث لمبی حدیث کا ایک جزء ہے، تفصیل بخاری شریف وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اعتکاف میں مسجد سے بلاضرورت باہر نکلنا، فضول باتیں کرنا ممنوع ہوتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کرنے والا اپنی بیوی سے بات کر سکتا ہے اور بیوی ملنے کے لئے مسجد جا سکتی ہے، مذکور بالا حدیث لمبی حدیث کا ایک جزء ہے، تفصیل بخاری شریف وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔