سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب في فَضْلِ الْعَمَلِ في الْعَشْرِ: باب: ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عمل کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا الْعَمَلُ، فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْ الْعَمَلِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ". قِيلَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: "وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالحجہ کے دس دن کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں اتنی فضیلت نہیں“، پوچھا گیا: کیا جہاد کی بھی اتنی فضیلت نہیں؟ فرمایا: ”ہاں، جہاد بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرے میں ڈال کر نکلا، اور کچھ بھی لے کر واپس نہ آیا۔ “ (یعنی جان و مال سب قربان کر دیا)۔