حدیث نمبر: 1808
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ: فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّهُ يَتْرُكُ الطَّعَامَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کے لئے ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا ہے سوائے روزے کے، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ وہ روزے دار اپنا کھانا اپنی شہوت میری وجہ سے چھوڑتا ہے، پینا اور اپنی خواہش نفسانی میری وجہ سے ترک کر دیتا ہے، پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1806 سے 1808)
روزے دار کو کتنا اجر ملے گا یہ اس حدیثِ قدسی میں ذکر نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے دار کا اجر بے حد اور بے حساب ہوگا، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: «﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [الزمر: 10]» ۔
روزے دار کو کتنا اجر ملے گا یہ اس حدیثِ قدسی میں ذکر نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے دار کا اجر بے حد اور بے حساب ہوگا، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: «﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [الزمر: 10]» ۔