سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب في صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: باب: عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 1797
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَالْيَهُودُ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنْتُمْ أَوْلَى بِمُوسَى فَصُومُوهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (اس کا سبب) پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس دن میں موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر غلبہ حاصل ہوا (اور فتح حاصل ہوئی)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک ترین ہو، روزہ رکھو۔“