سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب في صِيَامِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ: باب: پیر اور جمعرات کے روزے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: "إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اثنین و خمیس کا روزہ رکھتے تھے، میں نے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اثنین و خمیس کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ “ (یعنی پیر اور جمعرات کو)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1788)
معلوم ہوا کہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا سنّت ہے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ خادم خاتم الرسل ہیں، انہوں نے پیران سالی میں بھی اس سنّت کو چھوڑنا گوارہ نہ کیا (رضی اللہ عنہ وأرضاه)۔
معلوم ہوا کہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا سنّت ہے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ خادم خاتم الرسل ہیں، انہوں نے پیران سالی میں بھی اس سنّت کو چھوڑنا گوارہ نہ کیا (رضی اللہ عنہ وأرضاه)۔