سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِماً تَطَوُّعاً ثُمَّ يُفْطِرُ: باب: کوئی شخص نفلی روزہ رکھے پھر صبح کو افطار کر لے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ . قَالَتْ: فَجَاءَتْ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ، فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَفْطَرْتُ، وَكُنْتُ صَائِمَةً . فَقَالَ لَهَا: "أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا ؟ قَالَتْ: لَا . قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَقُولُ بِهِ.سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا: فتح مکہ کے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئیں، اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا دائیں طرف تھیں، انہوں نے کہا: لونڈی پانی کا برتن لے کر آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس سے پانی پیا، پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، انہوں نے بھی اس برتن سے پانی پیا پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی اور اب روزه توڑ دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قضا کا روزہ تھا؟“ عرض کیا: نہیں، فرمایا: ”تب کوئی حرج نہیں جبکہ نفلی روز ہ تھا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ ہی میرا قول ہے (یعنی نفلی روزہ اگر توڑ دیا تو کہا کوئی حرج نہیں)۔
«فَلَا يَضُرُّكِ» یعنی کچھ گناہ نہیں، اس سے اختلاف ہوا کہ نفلی روزے کو توڑا ہے تو اس کی قضا ہے یا نہیں، صحیح یہ ہے کہ قضا ضرور کرنی چاہیے کیونکہ ایک اور حدیث میں ہے: ”اس کی جگہ پر دوسرے دن روزہ رکھ لینا۔
“ والله اعلم۔