سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِماً تَطَوُّعاً ثُمَّ يُفْطِرُ: باب: کوئی شخص نفلی روزہ رکھے پھر صبح کو افطار کر لے
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كَانَ قَضَاءَ رَمَضَانَ، فَصُومِي يَوْمًا آخَرَ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا، فَإِنْ شِئْتِ، فَاقْضِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ، فَلَا تَقْضِيهِ".سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ روزے سے تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا برتن لایا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، پھر وہ برتن سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، انہوں نے بھی پانی پی لیا (پھر عرض کیا: میرا روزہ تھا اور میں نے افطار کر لیا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ روزہ رمضان کے روزے کی قضا کا تھا تو دوسرے دن روزہ رکھ لینا، اور اگر نفلی روزہ تھا تو جی چاہے تو قضا کر لینا دل نہ چاہے تو قضا نہ کرنا۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قضاء روزے کو اگر توڑا ہے تب اس کی قضا کے طور پر دوسرا روزہ رکھنا ہوگا، اور اگر کوئی نفلی روزہ توڑ دے تو اس کو اختیار ہے چاہے تو اس کی جگہ روزہ رکھے چاہے نہ رکھے، لیکن اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، اہل الحدیث اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ نفلی روزے کو توڑنے پر اس کی قضا کر لینی چاہیے، امام شافعی و امام احمد و امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہم نے کہا کہ واجب نہیں، قضا مستحب ہے۔
(واللہ اعلم)۔