سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب فِيمَنْ أَكَلَ نَاسِياً: باب: روزے میں بھول کر کچھ کھا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 1765
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ ذَكَرَ، فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ: يَقْضِي، وَأَنَا أَقُولُ: لَا يَقْضِي.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں بھول کر کھا یا پی لے، پھر اسے یاد آ جائے تو وہ اپنا روز ہ پورا کرے، بیشک اللہ تعالیٰ نے اس کو کھلایا اور پلایا ہے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اہل حجاز کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں روزہ قضا کرنا ہو گا، اور میں یہ کہتا ہوں قضا نہیں کرنا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1763 سے 1765)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ روزے کی حالت میں کوئی بھول کر کچھ کھا پی لے تو اس کا روزہ صحیح ہے، نہ اس پر قضا ہے اور نہ کفارہ، یہ ہی صحیح مسلک ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ روزے کی حالت میں کوئی بھول کر کچھ کھا پی لے تو اس کا روزہ صحیح ہے، نہ اس پر قضا ہے اور نہ کفارہ، یہ ہی صحیح مسلک ہے۔