سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الْمَرْأَةِ تَطَوُّعاً إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا: باب: شوہر کی اجازت کے بنا عورت کو نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا تَطَوُّعًا فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر رمضان کے علاوہ ایک دن کا بھی نفلی روزہ نہ رکھے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1756 سے 1758)
نفلی روزہ نفلی عبادت ہے اور خاوند کی اطاعت عورت کے اوپر فرض ہے اس لئے نفلی عبادت سے زیادہ فرض کی ادائیگی ضروری ہے، مرد دن میں اگر اپنی بیوی سے ملاپ کرنا چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہو گا، لہٰذا پہلے ہی اجازت لے کر اگر روزہ رکھے تو بہتر ہے (مولانا راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
نفلی روزہ نفلی عبادت ہے اور خاوند کی اطاعت عورت کے اوپر فرض ہے اس لئے نفلی عبادت سے زیادہ فرض کی ادائیگی ضروری ہے، مرد دن میں اگر اپنی بیوی سے ملاپ کرنا چاہے تو عورت کو نفلی روزہ ختم کرنا ہو گا، لہٰذا پہلے ہی اجازت لے کر اگر روزہ رکھے تو بہتر ہے (مولانا راز رحمۃ اللہ علیہ)۔