حدیث نمبر: 175
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: "أَلَمْ أُنْبَأْ أَوْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تُفْتِي وَلَسْتَ بِأَمِيرٍ ؟ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے خبر لگی ہے کہ تم فتوے دیتے ہو حالانکہ تم امیر بھی نہیں ہو، جو چیز جس کے لائق ہے اس کے لئے ہی رہنے دو۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 170 سے 175)
«وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّي قَارَهَا» یہ عربی کہاوت ہے جس کے معنی ہیں کہ جو اچھی چیز کا والی بنا بری چیزوں کو بھی وہی (جھیلے) برداشت کرے۔
مطلب یہ کہ جو جس چیز کا اہل ہے وہ اسی کے لئے چھوڑ دو، اور فتویٰ دینے میں احتیاط کرو۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 175
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): ، [مكتبه الشامله نمبر: 175]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کونہیں پایا۔ اسے ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 2064] میں ذکر کیا ہے۔