سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب النَّهْيِ عَنِ التَّقَدُّمِ في الصِّيَامِ قَبْلَ الرُّؤْيَةِ: باب: رمضان کا چاند دیکھنے سے پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1727
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ يَوْمًا، وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا، فَلْيَصُمْهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو، البتہ اگر کسی کو ان دنوں میں روزہ رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1726)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ہر ہفتے پیر یا جمعرات کا روزہ رکھتا ہے اور اتفاق سے وہ دن شعبان کی آخری تاریخوں میں آ گیا تو وہ یہ روزہ رکھ لے، حدیث خاص طور پر رمضان کے استقبال یا احترام میں ایک یا دو دن پہلے سے روزہ رکھنے کی ممانعت و کراہت کو ثابت کرتی ہے۔
(واللہ اعلم)۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ہر ہفتے پیر یا جمعرات کا روزہ رکھتا ہے اور اتفاق سے وہ دن شعبان کی آخری تاریخوں میں آ گیا تو وہ یہ روزہ رکھ لے، حدیث خاص طور پر رمضان کے استقبال یا احترام میں ایک یا دو دن پہلے سے روزہ رکھنے کی ممانعت و کراہت کو ثابت کرتی ہے۔
(واللہ اعلم)۔