سنن دارمي
من كتاب الصوم— روزے کے مسائل
باب في النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ: باب: شک کے دن میں روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1720
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: "مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
صلہ بن زفر نے کہا: ہم سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ وہ بھنی ہوئی بکری لے کر آئے اور فرمایا کہ کھاؤ، ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا اور کہا کہ میں روزے سے ہوں، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی شک کے دن میں روزہ رکھے اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1719)
غالباً یہ شعبان کی تیس تاریخ تھی اور رؤیتِ ہلال میں شک و تردد تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شک والے دن روزے رکھنے سے منع کیا ہے جیسا کہ ابن ماجہ میں ہے، لہٰذا جس نے شک میں روزہ رکھا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
غالباً یہ شعبان کی تیس تاریخ تھی اور رؤیتِ ہلال میں شک و تردد تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شک والے دن روزے رکھنے سے منع کیا ہے جیسا کہ ابن ماجہ میں ہے، لہٰذا جس نے شک میں روزہ رکھا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔