سنن دارمي
من كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
باب مَنْ أَسْلَمَ عَلَى شَيْءٍ: باب: کوئی آدمی جب اسلام لائے تو وہ چیز اسی کی ہو گی جو اس کے پاس تھی
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ، قَالَ: أُخِذَتْ عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَقَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّتَهُ، فَقَالَ: "يَا صَخْرُ، إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا، أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ" . وَكَانَ مَاءٌ لِبَنِي سُلَيْمٍ، فَأَسْلَمُوا، فَسَأَلُوهُ ذَلِكَ فَدَعَانِي، فَقَالَ: "يَا صَخْرُ، إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا، أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ"فَدَفَعْتُهَا .سیدنا صخر بن عيلۃ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی کو گرفتار کیا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماجرا پوچھا، پھر فرمایا: ”اے صخر! جب کوئی قوم مسلمان ہو جائے تو ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اس لونڈی کو انہیں لوگوں کو واپس کر دو۔“ (اسی طرح) بنو سلیم کا پانی تھا اور وہ اسلام لے آئے اور درخواست کی کہ ان کا پانی انہیں کے پاس رہنے دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب کوئی قوم مسلمان ہو جائے تو ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں اس پانی کو نہیں لوٹا دو۔“ چنانچہ میں نے وہ پانی (یعنی پانی کی جگہ کو) واپس کر دیا۔