حدیث نمبر: 1706
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ , وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہريرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور سے جو زخم لگے اس کا کچھ بدلہ نہیں، کنویں میں جو گر جائے وہ بھی معاف، اور کان میں جو فوت ہو جائے اس کا خون بھی معاف، اور دفینے میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 1705)
اصح الاقوال میں رکاز وہ پرانا دفینہ ہے جو کسی کو کہیں مل جائے، اور اس میں سے بیت المال میں پانچواں حصہ دیا جائے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور اگر کسی کو مار دے تو اس کا کوئی بدلہ نہیں، اسی طرح کوئی شخص کنویں میں گر جائے تو اس کا بھی کوئی بدلہ نہیں، اور کان میں کوئی گر کر مر جائے تو اس کا بھی کوئی بدلہ نہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الزكاة / حدیث: 1706
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 1710]» ¤ اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1499] ، [مسلم 1710] ، [أبوداؤد 3085] ، [نسائي 2494] ، [ابن ماجه 2509] ، سنن میں صرف رکاز کا ذکر ہے۔