سنن دارمي
من كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ عَشَّاراً: باب: زکاۃ وصول کرنے والے کا اپنے لئے تاواں لینے کا بیان
حدیث نمبر: 1704
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ" . قَالَ: قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي: عَشَّارًا.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”صاحب مکس جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: صاحب مکس سے مراد عشر لینے والا ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1703)
اس حدیث میں «مكس» کے معنی ظلم و زیادتی کے ہیں اور صاحبِ مکس سے مراد وہ عامل اور زکاة وصول کرنے والا ہے جو قدرِ واجب سے زیادہ لے، یعنی (مسٹر ٹین پرسنٹ)، زکاة سو روپے واجب ہو لیکن اپنا حصہ ٹیکس لگا کر سو روپے سے زیادہ وصول کرے یہ سراسر ظلم ہے، ایسا کرنے والا جنّت میں داخل نہ ہوگا۔
گرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن «اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۔
اس حدیث میں «مكس» کے معنی ظلم و زیادتی کے ہیں اور صاحبِ مکس سے مراد وہ عامل اور زکاة وصول کرنے والا ہے جو قدرِ واجب سے زیادہ لے، یعنی (مسٹر ٹین پرسنٹ)، زکاة سو روپے واجب ہو لیکن اپنا حصہ ٹیکس لگا کر سو روپے سے زیادہ وصول کرے یہ سراسر ظلم ہے، ایسا کرنے والا جنّت میں داخل نہ ہوگا۔
گرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن «اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۔