سنن دارمي
من كتاب العيدين— عیدین کے مسائل
باب إِذَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ في يَوْمٍ: باب: عید و جمعہ ایک ہی دن پڑ جائے تو کیا کریں
حدیث نمبر: 1652
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ، رَجَعَ فِي طَرِيقٍ آخَرَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کی نماز کے لئے نکلتے تو واپس دوسرے راستے سے ہوتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1651)
اس حدیث سے عید کی نماز کے لئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے سے واپس آنے کی سنّت معلوم ہوئی تاکہ ہر طرف کے اشجار و احجار اور بقعات الارض پر نقش ثبت ہوں، اور قیامت کے دن اس اطاعت و فرماں برداری کی سب شہادت دیں (واللہ اعلم)۔
اس حدیث سے عید کی نماز کے لئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے سے واپس آنے کی سنّت معلوم ہوئی تاکہ ہر طرف کے اشجار و احجار اور بقعات الارض پر نقش ثبت ہوں، اور قیامت کے دن اس اطاعت و فرماں برداری کی سب شہادت دیں (واللہ اعلم)۔