سنن دارمي
من كتاب العيدين— عیدین کے مسائل
باب الْقِرَاءَةِ في الْعِيدَيْنِ: باب: نماز عیدین میں قرأت کا بیان
حدیث نمبر: 1646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فَقَرَأَ بِهِمَا".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ کی نماز میں «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» اور «هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» پڑھتے تھے، اور جب کبھی عید و جمعہ ایک ساتھ ہو جاتے تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ (یعنی «سورة الأعلى و الغاشية» کو)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1645)
اس صحیح حدیث سے نمازِ جمعہ و عیدین میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورة الاعلی اور دوسری رکعت میں سورة الغاشیہ پڑھنا ثابت ہوا جو سنّتِ رسول ہے، دوسری سورتیں اور آیات بھی پڑھی جا سکتی ہیں لیکن افضل یہ ہی سورتیں ہیں۔
نیز یہ کہنا کہ کسی نماز کے لئے کوئی سورت خاص کرنا سہی نہیں ہے، یہ بات درست نہیں۔
«(مَا آتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ)» ۔
اس صحیح حدیث سے نمازِ جمعہ و عیدین میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورة الاعلی اور دوسری رکعت میں سورة الغاشیہ پڑھنا ثابت ہوا جو سنّتِ رسول ہے، دوسری سورتیں اور آیات بھی پڑھی جا سکتی ہیں لیکن افضل یہ ہی سورتیں ہیں۔
نیز یہ کہنا کہ کسی نماز کے لئے کوئی سورت خاص کرنا سہی نہیں ہے، یہ بات درست نہیں۔
«(مَا آتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ)» ۔