سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب في الْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ: باب: رکوع کے بعد قنوت کا بیان
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ . قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا زَعَمَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ . قَالَ: كَذَبَ، ثُمَّ حَدَّثَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے ہے، میں نے کہا: فلاں کا تو خیال ہے کہ آپ نے کہا ہے قنوت رکوع کے بعد ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت پڑھی، یا یہ کہا کہ ایک مہینے تک آپ بنی سلیم کے ایک قبیلے پر بددعا کرتے رہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1634)
مقصد یہ کہ صرف ایک ماہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوتِ نازلہ رکوع کے بعد پڑھی ہے، تفصیل آگے آرہی ہے۔
مقصد یہ کہ صرف ایک ماہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوتِ نازلہ رکوع کے بعد پڑھی ہے، تفصیل آگے آرہی ہے۔