حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهَا، قَالَتْ: "فِي كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھی ہے، اور اخیر میں آپ کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1625)
دوسری روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر شروع رات، وسط اور آخر شب میں بھی پڑھی ہے، مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ وتر کا وقت عشاء کے بعد سے طلوعِ فجر تک کا ہے، رسولِ رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امّت کی آسانی کے لئے عشاء کے بعد رات میں جب بھی ممکن ہو وتر ادا کرنا جائز قرار دیا۔
دوسری روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر شروع رات، وسط اور آخر شب میں بھی پڑھی ہے، مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ وتر کا وقت عشاء کے بعد سے طلوعِ فجر تک کا ہے، رسولِ رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امّت کی آسانی کے لئے عشاء کے بعد رات میں جب بھی ممکن ہو وتر ادا کرنا جائز قرار دیا۔