حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَوْتِرْ بِخَمْسٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ، فَبِوَاحِدَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً" .محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”پانچ رکعت وتر پڑھو، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو تین رکعت پڑھ لو، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ایک رکعت ہی پڑھ لو، اس کی قوت نہ ہو تو اشارے سے پڑھ لو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1620)
اس صحیح حدیث میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا واضح ثبوت ہے، اس لئے ایک رکعت وتر کا انکار کرنا حدیث کی مخالفت ہے۔
اس صحیح حدیث میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا واضح ثبوت ہے، اس لئے ایک رکعت وتر کا انکار کرنا حدیث کی مخالفت ہے۔