حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، جَعَلَهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک نماز اور بڑھا دی ہے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، اس کا وقت عشاء اور طلوعِ فجر کے درمیان ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1614)
ابوداؤد و ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جو نماز سرخ اونٹوں سے بہتر ہے وہ نماز وتر ہے۔
اس سے قیام اللیل یا وتر کی اہمیت ثابت ہوئی۔
ابوداؤد و ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جو نماز سرخ اونٹوں سے بہتر ہے وہ نماز وتر ہے۔
اس سے قیام اللیل یا وتر کی اہمیت ثابت ہوئی۔