سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ: باب: جمع بین الصلاتین کا بیان
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی چلنا ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1553 سے 1556)
جمع بین الصلاة دو نمازوں کو ملا کر ایک وقت میں پڑھنے کو کہتے ہیں، اور اس کی دو صورتیں ہیں: جمع تقدیم اور جمع تاخیر، دونوں ہی جائز ہیں۔
اکثر ائمہ کے نزدیک سفر میں اور حضر میں بھی خوف اور مطر (بارش) کی وجہ سے دو نمازیں ملاکر پڑھی جا سکتی ہیں، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ سے اور اس باب کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنّت پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
جمع بین الصلاة دو نمازوں کو ملا کر ایک وقت میں پڑھنے کو کہتے ہیں، اور اس کی دو صورتیں ہیں: جمع تقدیم اور جمع تاخیر، دونوں ہی جائز ہیں۔
اکثر ائمہ کے نزدیک سفر میں اور حضر میں بھی خوف اور مطر (بارش) کی وجہ سے دو نمازیں ملاکر پڑھی جا سکتی ہیں، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ سے اور اس باب کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنّت پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔