سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب الصَّلاَةِ عَلَى الرَّاحِلَةِ: باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1553
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر نفل نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشارے سے نماز پڑھ رہے تھے، اس کا خیال کئے بغیر کہ سواری کا منہ کسی طرف ہے، لیکن فرض نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1551 سے 1553)
ایسی سواری جو اپنے اختیار میں ہو جیسے کار یا اونٹ، گھوڑا، خچر وغیرہ تو نفل نماز اس پر پڑھی جا سکتی ہے۔
فرض نماز کے لئے اترنا اور زمین پر پڑھنا چاہیے۔
ریل، جہاز وغیرہ پر فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے جو اختیار میں نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
ایسی سواری جو اپنے اختیار میں ہو جیسے کار یا اونٹ، گھوڑا، خچر وغیرہ تو نفل نماز اس پر پڑھی جا سکتی ہے۔
فرض نماز کے لئے اترنا اور زمین پر پڑھنا چاہیے۔
ریل، جہاز وغیرہ پر فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے جو اختیار میں نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔