سنن دارمي
من كتاب الصللاة— نماز کے مسائل
باب فِيمَنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِبَلْدَةٍ كَمْ يُقِيمُ حَتَّى يَقْصُرَ الصَّلاَةَ: باب: کوئی شخص کسی شہر میں کتنے دن قیام کرے تو اس کے لئے قصر جائز ہے ؟
حدیث نمبر: 1550
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُكْثُ الْمُهَاجِرِ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثٌ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر حج کی ادائیگی کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1548 سے 1550)
یہ حکم صرف مہاجر کے لئے ہے یعنی جو فتح مکہ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ان کے لئے فتح مکہ سے پہلے تین دن سے زیادہ مکہ میں ٹھہرنے کا حکم نہیں تھا، لیکن فتح مکہ کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا اور حاجی کہیں سے بھی آئے جب تک چاہے مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔
یہ حکم صرف مہاجر کے لئے ہے یعنی جو فتح مکہ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ان کے لئے فتح مکہ سے پہلے تین دن سے زیادہ مکہ میں ٹھہرنے کا حکم نہیں تھا، لیکن فتح مکہ کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا اور حاجی کہیں سے بھی آئے جب تک چاہے مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔