حدیث نمبر: 1523
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمْ يَزَلْ هُنَالِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، يَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى؟ أَلَا مُذْنِبٌ مُسْتَغْفِرٌ فَيُغْفَرَ لَهُ؟" .
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت محسوس نہ کرتا تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز میں تہائی رات تک تاخیر کرتا، کیونکہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر آتا ہے اور طلوع فجر تک وہاں رہتا ہے، اور فرشتہ منادی کرتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا نہیں جسے دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا نہیں کہ دعا قبول کی جائے، کیا کوئی بیمار نہیں جس کو شفا دی جائے، کیا کوئی ایسا گناہ کرنے والا نہیں جو مغفرت طلب کرے اور اسے بخش دیا جائے؟“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1525]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 6576] ، اسی طرح آنے والی حدیث کی سند ہے۔